Layi hayat aaye kaza le chali chale | Ibrahim Zauq

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

ہو عمرِ خضر بھی تو کہیں گے بوقتِ مرگ
ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے

دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے

نازاں نہ ہو خِرد پہ جو ہونا ہے وہ ہی ہو
دانش تری نہ کچھ مری دانشوری چلے

کم ہوں گے اس بساط پہ ہم جیسے بدقمار

جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے
جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوق
اپنی بلا سے بادِ صبا اب کبھی چلے

ابراہیم ذوق

Ab tu ghabra ke ye kehte | Mohammad Ibrahim Zauq

Ab tu ghabra ke ye kehte

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
چڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے

سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریا

اور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیں
پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے بچیں گے رہ گزر یار تلک کیونکر ہم
جب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی
بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ سے
مہر و مہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے رخِ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تم
پر یہی ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے شعلہ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤں
ان کو مہ خانہ میں لے آؤ سنور جائیں گے ذوق جو مدرسہ کے بگڑے ہوئے ہیں مُلا

شاعر ابراہیم ذوق

تم اور فریب کھاؤ بیانِ رقیب سے

تم اور فریب کھاؤ بیانِ رقیب سے
تم سے تو کم گِلا ہے زیادہ نصیب سے

گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے
ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے

بربادِ دل کا آخری سرمایہ تھی امید
وہ بھی تو تم نے چھین لیامجھ غریب سے

دھندلا چلی نگاہ دمِ واپسی ہے اب
آ پاس آ کہ دیکھ لوں تجھ کو قریب سے

شاعر آغا حشر

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے، کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں

اک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں

آرزؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
جب بہار آئی گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں

حشر میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
اپنا غم دل کی زباں میں، دل کو سمجھاتا ہوں میں

آغا حشر 

درد کم ہونے لگا آؤ کہ کچھ رات کٹے

درد کم ہونے لگا آؤ کہ کچھ رات کٹے
غم کی معیاد بڑھا جاؤ کہ کچھ رات کٹے

ہجر میں آہ و بکا رسمِ کہن ہے لیکن
آج یہ رسم ہی دہراؤ کہ کچھ رات کٹے

یوں توتم روشنئ قلب و نظر ہو لیکن
آج وہ معجزہ دکھلاؤ کہ کچھ رات کٹے

دل دکھاتا ہے وہ مل کر بھی مگر آج کی رات
اُسی بے درد کو لے آؤ کہ کچھ رات کٹے

دم گھٹا جاتا ہے ہے افسردہ دلی سے یارو
کوئی افواہ ہی پھیلاؤ کہ کچھ رات کٹے

میں بھی بیکار ہوں اور تم بھی ہو ویران بہت
دوستو آج نہ گھر جاؤ کہ کچھ رات کٹے

چھوڑ آئے ہو سرشام اُسے کیوں ناصر
اُسے پھر گھر سے بلا لاؤ کہ کچھ رات کٹے

شاعر ناصر کاظمی

جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی

جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی
دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی

تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ پیار آتا ہے
تری الفت نے محبت مری عادت کر دی

پوچھ بیٹھا ہوں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تیری حالت کر دی

کیا ترا جسم تیرے حسن کی حدّت میں جلا
راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی

شاعر احمد ندیم قاسمی

غم ہے یا خوشی ہے تو

غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو

آفتوں کے دور میں

چین کی گھڑی ہے تو

میری رات کا چراغ

میری نیند بھی ہے تو

میں خزاں کی شام ہوں

رُت بہار کی ہے تو

دوستوں کے درمیاں

وجہِ دوستی ہے تو

میری ساری عمر میں

ایک ہی کمی ہے تو

میں تو وہ نہیں رہا

ہاں مگر وہی ہے تو

ناصر اس دیار میں

کتنا اجنبی ہے تو

شاعر ناصر کاظمی

دل میں اور تو کیا رکھا ہے

دل میں اور تو کیا رکھا ہے
تیرا درد چھپا رکھا ہے

اتنے دکھوں کی تیز ہوا میں
دل کا دیپ جلا رکھا ہے

دھوپ سے چہروں نے دنیا میں
کیا اندھیر مچا رکھا ہے

اس نگری کے کچھ لوگوں نے
دکھ کا نام دوا رکھا ہے

وعدۂ یار کی بات نہ چھیڑو
یہ دھوکا بھی کھا رکھا ہے

بھول بھی جاؤ بیتی باتیں
ان باتوں میں کیا رکھا ہے

چپ چپ کیوں رہتے ہو ناصر
یہ کیا روگ لگا رکھا ہے

شاعر ناصر کاظمی