Ab tu ghabra ke ye kehte | Mohammad Ibrahim Zauq

Ab tu ghabra ke ye kehte

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
چڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے

سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریا

اور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیں
پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے بچیں گے رہ گزر یار تلک کیونکر ہم
جب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی
بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ سے
مہر و مہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے رخِ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تم
پر یہی ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے شعلہ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤں
ان کو مہ خانہ میں لے آؤ سنور جائیں گے ذوق جو مدرسہ کے بگڑے ہوئے ہیں مُلا

شاعر ابراہیم ذوق

Leave a Reply

Your email address will not be published.